Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

مستقل مزاج بننا ہے تو پانچ عادات اپنائیے

جدید دور میں نوجوانوں کومعلومات کی فراوانی کی وجہ سے عجیب مسائل کا سامنا ھے. ان سب میں سرفہرست مستقل مزاجی کا فقدان ھے. آج کا نوجوان کرئیر کے بارے میں فیصلہ کرنےمیں تذبذب کا شکار ھوگیا ھے. لیکن دنیا میں کوئی مسئلہ بھی ایسا نھیں جسکا حل نہ ھو.
اکثر لوگ ایک کام شروع کرکے درمیان میں چھوڑ دیتے ھیں، اس طرح باربار نئی شروعات انسان کو بددل کرکے رکھ دیتی ھے. اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے پانچ باتوں کو زندگی کا حصہ بنانا چاھئے.

اول: ھمیشہ “کیوں” پر توجہ دے. یعنی ہر کام شروع کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اگرآپ کوئی کام کررہے ہیں تو کیوں کررہے ہیں، تاکہ آپکی دلچسپی برقرار رھے. مثلا آپ گھر خریدنا چاھتے ھیں تو بچت شروع کرے، اس بچت کیلئے ضروری ھے کہ آپکو پتہ ھو کہ اسکا مقصد کیا ھے. مثلا بچت شادی کےلئے، والدین کو حج کروانے، اعلٰی تعلیم کے لئے، یا پھر گاڑی خریدنے کے لئے کی جاتی ھے. تو اگر آپ مستقل مزاج بننا چایتے ھیں تو آپکے پاس ایک کام کو کرنے کا مقصد ھونا چاہئے. تب آپکی دلچسپی برقرار رھےگی.

دوم: ھمیشہ اپنے لئے ایک راستہ چن لیں، ھمیشہ ایک وقت میں صرف ایک کام ھی کریں. انسان کے پاس توانائی محدود ھے. وہ ھر کام تک کبھی نہیں پہنچ سکتا، جب تک وہ ایک کام مکمل نہ ھو، دوسرا شروع نہ کریں. مثلآ ڈاکٹر کبھی بھی اپنے مریض کو چینی اور سیگریٹ بہ یک وقت چھوڑنے کیلئے نہیں کہے گا. بلکہ پہلے کچھ عرصہ ایک چیز سے عادت چھڑوائےگا، پھر دوسرے کا کہے گا. کیونکہ انسان ایک وقت میں ایک ھی کام صحیح کرسکےگا.

سوم: اگر مستقل مزاج بننا ہےتومعمولات کا شیڈول بنائیے. روزمرہ کے کام ھمیشہ ایک ترتیب اور کام کرنے کے اوقات مقرر کرکے کرے. پھر چاھے کچھ بھی ھو، ان کاموں کو اپنی مقررہ وقت پر پایہءتکمیل تک پہنچائیں. کسی چیز کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام پر توجہ دیں.

چھارم: اپنے جزبات کو قابو میں رکھیں. احساسات کوپس پشت ڈال کر آگے بڑھیے. مثلا ورزش کرتے ھوئے یا کوئی کتاب پڑھنی ھو، یا کسی ضروری کام سے کہیں جانا ھو، تو اس طرح کے کاموں کو اس وجہ سے نہ چھوڑئے کہ یار آج موڈ نہیں یا دل نہیں کر رہا. اس طرح جزبات و احساسات کو ختم کرکے آگے بڑھئے.

پنجم: کوئی موقع ضائع مت کریں، بلکہ گاڑی کو پکڑ لیں، کیونکہ گاڑی جب چھوٹ جائے، تو مشکل سے ہی ہاتھ آتی ہے. مطلب جب کام درپیش ہو تو اسکو کردیجئے، نہ کہ کردیںگے یارکوئی ایمرجنسی تو نہیں، کیونکہ وہ کام بعد میں ایمرجنسی ھی ہو جاتا ھے.