Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تھر: درد اور مسکان کا صحرا

“آپ نے تھر دیکھا نہیں ہے، جب ریت کے ٹیلوں کو دیکھیں گے، ان ٹیلوں پر بکھری ہریالی دیکھیں گے، وہاں کے لوگوں سے ملیں گے، تب آپ کو پتہ چلے گا کہ ریت کے ان ٹیلوں میں ایک سحر بستا ہے۔ ان کو جو ایک بار دیکھ لے پھر بار بار یہاں آتا ہے۔۔”

یہ الفاظ ‘سردار بھیو’ نے مجھے ڈھلتے سورج کے وقت تب کہے جب میں ‘عمرکوٹ’ کے قلعے کے بیچ میں بنے ہوئے برج پر کھڑا تھا اور جہاں سے میں دور دور تک دیکھ سکتا تھا۔ اس قلعے کے نام سے موسوم عمرکوٹ کا شہر بھی دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ جس نے بھی اس قلعے کی بنیاد رکھی ہوگی یقیناً بڑی سوچ و بچار کے بعد ہی رکھی ہوگی۔ اس قلعے کے مشرق کی طرف دیکھیں تو ریت کے ٹیلے نظر آئیں گے اور مغرب کی طرف دیکھیں تو وہاں ریت کا نام و نشان نہیں ہے، سفید اور زرخیز مٹی کی ایک چادر سی بچھی ہے جس میں شاندار فصلیں لہلہاتی ہیں۔

میں نے جب سردار بھیو سے پوچھا کہ ‘تھر یہاں سے شروع ہوتا ہے یا یہیں پر ختم ہوتا ہے؟’ میرے اس سوال پر وہ کچھ حیران ہوا، پھر اپنے منہ بڑبڑایا: ‘شروع ہوتا ہے، ختم ہوتا ہے۔’ مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔ ویسے بھی صحراؤں اور سمندروں کی ابتداء اور اختتام نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی کوئی سرحد ہوتی ہے، بالکل ایسے جیسے پرندوں کی اڑان، بادل اور خوشبو کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

عمر کوٹ کا قلعہ.
عمر کوٹ کا قلعہ.
اکبر کی جائے پیدائش.
اکبر کی جائے پیدائش.

تھر کا صحرا لاکھوں کلومیٹرز میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ دنیا کا 17واں بڑا صحرا ہے اور Subtropical Desert کے حوالے سے 9ویں نمبر پر آتا ہے۔ اس کا بڑا حصہ یعنی تقریباً 85 فیصد انڈیا کی طرف ہے اور 15 فیصد کے لگ بھگ ہمارے پاس ہے۔

“سندھ گزیٹیئر” کے مطابق سندھ کے تھر کا ایریا 10542 میلوں میں پھیلا ہوا ہے۔ تھر کے شمالی حصے میں ان ریت کے ٹیلوں کا حجم اتنا بڑا نہیں ہے البتہ جنوب میں خاص کر تحصیل مٹھی میں ان ریت کے ٹیلوں کا حجم بہت بڑا ہے۔

‘کیپٹن ریئکس’ تھر کے معروضی حالات کے متعلق 170 برس پہلے تحریر کرتے ہیں کہ: “کھیتی باڑی ریت کے ٹیلوں کے بیچ میں جو ہموار زمین ہوتی ہے اس میں کی جاتی ہے، اس لیے فصل بہت ہی کم زمین پر اگائی جاتی ہے۔ بارشوں کے بعد ریت کے ٹیلوں اور ٹیلوں کی بیچ والی زمین گھاس سے بھر جاتی ہے، کئی اقسام کی گھاس اور بیلیں اگ آتی ہیں، تھر کی گھاس دیگر علاقوں کی گھاس سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ مقامی لوگوں کا گزر بسر اس گھاس، مختصر اگی ہوئی فصلوں اور لائیواسٹاک سے ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی ملکیت اور وجود ہمیشہ غیر محفوظ رہتے ہیں، اس لیے زندگی گذارنے کے لیے ان کو پہلے سے بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔” 170 برس کے بعد بھی اس تصویر میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

ہم جب دوسری صبح عمرکوٹ شہر سے باہر جنوب کی طرف ایک چھوٹے سے گاؤں میں گئے جہاں گھاس پھوس کی جھگیوں میں قالین بنے جاتے ہیں اور ایسے بھی گھر تھے جن کے آنگن اور دیواریں سفید مٹی کی وجہ سے آنکھوں کو بھاتی تھیں اور ان آنگنوں میں عورتیں ‘رلیاں’ سیتی ہیں اور رلیوں میں بھرے رنگ ان آنگنوں پر بکھر سے جاتے ہیں۔ یہ ان کا ذریعہ معاش بھی ہے اور وقت گزارنے کا اچھا وسیلہ بھی۔ میں جب گاؤں سے باہر نکلا تب پہلی بار مجھے لگا کہ تھر کے اس وسیع و عریض پھیلے ہوئے لینڈاسکیپ کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے چند دن ناکافی ہیں۔

ایک خاتون رلی سیتے ہوئے.
ایک خاتون رلی سیتے ہوئے.

ہم نے عمرکوٹ کو خدا حافظ کہا اور مشرق کی طرف چل کر پھر اسلام کوٹ جانے کے لیے جنوب کی طرف مڑ گئے۔ آپ جنوب کی طرف جیسے ہی راستے پر تھوڑا آگے کی طرف سفر کرتے ہیں تو آپ کو اچانک ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی اور جہان میں آگئے ہیں۔ کئی کلومیٹرز میں پھیلا ہوا ریت کا ایک ایک ٹیلا کسی بڑی سمندری لہر کی طرح محسوس ہوتا ہے اور اس پر پھیلی ہوئی ہریالی۔ آپ کی گاڑی ایک ٹیلے سے اترتی ہے تو دوسرے ٹیلے کی چڑھائی شروع ہوجاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ، تھرچار ناموں کی زمین ہے: ‘ریت کے ٹیلے’، ‘اونٹ’، ‘اکوار’ اور ‘زقوم’۔

ابھی تک ہمیں اونٹ تو نہیں ملے تھے البتہ اکوار (Apple of Sodom) کے نئے اگتے پودوں کی بہار لگی ہوئی تھی، بڑے ہرے پتے، شاخوں پر کِھلے ہوئے سفید سے پھول اور پھولوں کے کناروں پر ہلگا بینگنی رنگ ان پھولوں کی نزاکت اور خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کرتا، آپ اگر ان پھولوں کے کچھے کو اپنی دو انگلیوں کے بیچ میں لیں تو ایسا لگتا ہے جیسے پالنے میں جھولتے ہوئے کئی بچے مسکرا رہے ہوں اور پھر آپ ان کو جیسے چھوڑتے ہیں تو ہوا کے جھونکوں میں وہ گچھا جھولنے لگتا ہے۔ حدِ نگاہ تک ہزاروں اکوار کے کچھے تھے جو جھولتے جاتے۔

راستے چلتے دو ٹیلوں کے بیچ میں جو زمین آتی ان میں پہلی بارش کے بعد بوئے ہوئے بیج جیسے باجرہ، مونگ، تِل اور بہت سارے اناج اور سبزیاں اگ آئی تھیں۔ طوطے کے پروں جیسی میٹھی ہریالی اِن اگی فصلوں سے جھانکتی تھی اور ان زمینوں میں ‘کنڈی’ (Prosopis cineraria) کا درخت آتا جس کی چھاؤں میں دو چار بچے نظر آتے یا کوئی عورت اور مرد نظر آجاتے۔ راستے اور آبادی کے قریب کنواں بھی نظر آجاتا۔ اگر کسی کنویں سے پانی کھینچنے سے بنی ہوئی پگڈنڈی موجود ہے تو سمجھ میں آجانا چاہیے کہ کنواں گہرا ہے۔ اس کے بعد پگڈنڈی کے فاصلے سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کنواں کتنا گہرا ہے۔

اکوار کے پھول.
اکوار کے پھول.
ایک تھری بچہ.
ایک تھری بچہ.
ایک تھری بچہ اپنی بھیڑوں کے ساتھ.
ایک تھری بچہ اپنی بھیڑوں کے ساتھ.
ایک بزرگ کنویں سے پانی نکالتے ہوئے.
ایک بزرگ کنویں سے پانی نکالتے ہوئے.

آپ چلتے جاتے ہیں۔ راستے میں آپ کو نزدیکی ٹیلوں پر بکریوں کے ریوڑ ملتے ہیں، کبھی کبھی اونٹ بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جو کھاتے کم ہیں اور سر اونچا کر کے دیکھتے اور چباتے زیادہ ہیں۔ کیونکہ بارش ابھی تازہ ہوئی تھی تو چھوٹے بچے راستے پر پولیتھین کی تھیلیاں لے کر کھڑے تھے جن میں تازہ سفید ‘کھمبھیاں’ (Mushroom) تھیں جو فقط بارش کے موسم میں اگتی ہیں اور ان کا سالن بہت لذیذ بنتا ہے۔

میں نے جب بچی سے پوچھا کہ اس تھیلی کو لے کر وہ یہاں کب سے کھڑی ہے تو اس نے جواب دینے کے بجائے دوپٹہ دانتوں میں دبا دیا۔ ایک معصومیت کی مقدس لہر اس کی آنکھوں میں اگ آئی۔ میں نے اس سے وہ تھیلی خریدی اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔ ہم جب جانے لگے تو اس نے کہا ‘پانی’۔ ہم نے پانی کی بوتل دی تو ایک خوبصورت سی مسکان اس کے چہرے پر تھر کی ہریالی کی طرح پھیل سی گئی۔ اور ہزاروں اکوار کے سر تھے جو ہوا کے جھونکوں سے جھولتے تھے۔

تھر چار بڑے طبعی حصوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ‘تھر’: ریت کے ٹیلوں والا حصہ۔ ‘کٹھو’: تھر کے مغربی جنوب والا حصہ۔ ‘پارکر’: ننگر پارکر تحصیل کا ایک حصہ۔ ‘مہرانو’: تھر کی مغربی طرف والا حصہ۔ اس کے بعد ان چار بڑے حصوں کے پانچ اور حصے ہیں، جیسے ‘کھائڑ’: یہ چھاچھرو سے گڈڑو تک ہے، اس میں ریت کے ٹیلے چھوٹے ہیں اور کوئی بڑے درخت نہیں ہوتے۔

‘سامروٹی’: یہ مٹھی اور ڈیپلو تحصیل کا جنوبی حصہ ہے۔ ‘ونگو’: یہ ڈیپلو تحصیل کے مغرب والے حصے کو کہا جاتا ہے۔ ‘وٹ یا کنارو’: کچھ جو رن سے مٹھی اور ڈیپلو تحصیل کے کنارے والے علاقے کو کہا جاتا ہے۔ ‘ڈھٹ’: یہ تھر کے بیچ والے حصے کو کہا جاتا ہے، جس میں عمرکوٹ، چھاچھرو اور مٹھی تحصیل کا علاقہ آجاتا ہے اور اس وسیع صحرا میں 70 سے زائد مسلم و غیر مسلم ذاتیں رہتی ہیں اور خوب مل جل کر رہتی ہیں۔

ہم جب ‘اسلام کوٹ’ پہنچے تو بازاریں لوگوں سے بھری ہوئی تھیں اور خوب چہل پہل تھی، اس چھوٹے سے شہر کے جنوب میں جب ‘سَنت نینورام آشرم’ پہنچے تو وہاں بھی چہل پہل تھی۔ دسترخوان بچھا ہوا تھا۔ لوگ آتے، کھانا کھاتے، اور چلے جاتے۔ دوسری طرف پرندوں کے لیے دانہ اور پانی موجود تھا جہاں پرندے آتے دانہ چگتے، دو بوند پانی پیتے اور اڑ جاتے۔

یہاں کے رکھوالے لچھمن داس نے بتایا کہ روزانہ سراسری تین سے چار سو تک لوگ کھانا کھانے آتے ہیں۔ وہ جس وقت بھی آتے ہیں ان کو کھانا ملتا ہے۔ اور پرندوں کو روز 150 کلو سے زیادہ باجرہ دانے کے لیے دیا جاتا ہے۔ “یہ سب ایمان والوں کا دِیا ہوا دان ہے ہم تو بس پہنچانے والے ہیں”، یہ کہتے ہوئے لچھمن داس آتے ہوئے لوگوں میں خوراک تقسیم کرنے لگا اور آشرم کے آنگن میں مختلف پرندوں کی ڈاریں آسمان سے اترتی چلی جاتیں۔

ہم جب اسلام کوٹ سے گوڑی مندر اور بھالوا دیکھنے کے لیے نکلے تو وہ ہی شاندار ریت کے ٹیلے اور ان ٹیلوں پر لوگوں کے بنے ہوئے مخصوص قسم کے گھر (مقامی طور پر اس کو ‘چوئنرو’ کہتے ہیں، جو مقامی گھاسوں سے ہی بنتا ہے، خاص کر اس کی چھت ایک جھاڑی ‘کِھپ’ (Broom Brush) سے ڈھانپی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کتنی بھی بارش پڑے پر جس چھت پر کھپ پڑی ہو وہ نہیں برسے گی)، کنڈی، کومبھٹ (Acacia Senegal)، کیکر اور نیم کے درخت آئے۔

سنت نینورام آشرم میں دانہ چگتے کبوتر.
سنت نینورام آشرم میں دانہ چگتے کبوتر.
چوئنرو.
چوئنرو.
عمر کوٹ کا ایک جوگی.
عمر کوٹ کا ایک جوگی.

ایک گھنے نیم کے پیڑ کے نیچے گھر کے آنگن میں گھر کی مالکن بڑے غور سے رلی سی رہی تھی۔ مور تھا جو ‘چوئنرے’ کے گنبد پر چڑھ کر چنگھاڑتا تھا۔ میں نے یہ منظر دور سے دیکھا۔ بس مور کی چنگھاڑ ہی سنائی دی۔ ہوسکتا ہے اس ڈھلتی شام میں گھر کی مالکن کو کوئی اپنا یاد آرہا ہو اور اس کے بچھڑنے کے درد کی ہوک اس کے اندر سے اٹھتی ہو اور اس کسک کے وجود میں سے کوئی لوگ گیت اس کی روح کے ریگستان میں اگ آیا ہو اور آنکھیں بھیگ بھیگ گئی ہوں کیونکہ اکثر ویران شامیں اپنے وجود میں گزرے ہوئے خوبصورت لمحوں کے زخموں کو پالتی ہیں۔

ہم آگے چلے اور ساتھ میں ایسے منظر بھی ساتھ چلے۔ پھر اچانک راستے کے کنارے ‘روہیڑو’ (Desert teak) کے درخت آئے۔ فطرت نے اس درخت کے پھولوں کو رنگ دینے میں بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس پر پھول مارچ سے مئی تک لگتے ہیں مگر کبھی کبھار بغیر موسم کے بھی لگ جاتے ہیں۔ عجیب درخت ہے جو پھول بھی اپنے موڈ سے اگاتا ہے۔ مطلب ہم جو پھول دیکھ رہے تھے وہ درخت کے موڈ سے اگے ہوئے تھے؟

روہیڑو کا درخت.
روہیڑو کا درخت.
ننگر پارکر کی ایک قدیم گلی.
ننگر پارکر کی ایک قدیم گلی.

میں نے جب تھر کے معروف ادیب جوگی خالد سے اس درخت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: “ہمارے ہاں کہاوت ہے کہ ‘اکوار کو مت کاٹو اور نہ نیم کے پیڑ کو کلہاڑی کا گھاؤ دو، اور جس نے روہیڑے کا درخت کاٹا اس کی تو نسل ہی ختم ہو جائے گی۔’ تھر کا رہنے والا بنیادی طور پر فطرت پسند ہے، اس کو اپنے پرندوں، زمین، جھاڑیوں، درخت مطلب ہر اس چیز سے شدید محبت ہے جو فطرت نے اسے عطا کی ہے۔ کبھی روہیڑوں کا جنگل دیکھیے جہاں سینکڑوں پیڑ ہوں اور ان پر پھول لگے ہوں تو پتہ لگے کہ تھر کتنا خوبصورت ہے۔ ویسے بازار میں سب سے مہنگی لکڑی اس درخت کی ہے۔” خالد کنبھار کے الفاظ تھر کی خوشبو اور روہیڑے کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔

آپ جیسے جیسے جنوب کی طرف بڑھتے جاتے ہیں، ریت کے ٹیلے ایک دوسرے سے دور دور ہوتے جاتے ہیں اور ریت کے رنگ میں بھی تبدیلی آتی جاتی ہے۔ عمر کوٹ کی طرف رنگ سفید سا ہے، اگر آپ عمرکوٹ سے شمال کی طرف سفر کرتے جائیں تو ریت سفید تر ہوتی جاتی ہے اور جنوب کی طرف سفر کرو تو ریت کا رنگ پہلے سفید ہوگا، پھر مٹیالہ اور پھر زردی مائل ہوتا جائے گا اور ریت کے ذرات بھی کچھ بھاری ہوتے جائیں گے۔

گوڑی مندر.
گوڑی مندر.
گوڑی مندر.
گوڑی مندر.
جین مندر.
جین مندر.
جین مندر.
جین مندر.

‘ویرا واہ’ سے بیس کلومیٹر پہلے مرکزی راستے سے مشرق کی طرف گوڑی گاؤں کی طرف ایک لنک روڈ نکلتا ہے۔ آپ گوڑی گاؤں سے گذر کر شمال کی طرف جاتے ہیں تو جین دھرم کا ایک وسیع مندر آپ کو دکھائی دیتا ہے۔ اکتوبر 1898ع کے زلزلے نے اس مندر کو اچھا خاصا نقصان پہنچایا ہے مگر مندر کے اندر صفائی ہے کیونکہ محکمہء آثارِ قدیمہ نے وہاں چوکیدار مقرر کر رکھا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر سارے آثارِ قدیمہ پر ایسا انتظام کیا جائے؟

گوڑی مندر کے بعد پھر مرکزی شاہراہ پر آئے۔ کچھ کلومیٹرز کے بعد پھر مشرق کی طرف ایک لنک روڈ نکلتا ہے جہاں ‘بھالوا’ ہے اور وہ کنواں ہے جس سے عمر ماروی کی مشہور لوک داستان وابستہ ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ وہ کنواں ہے جہاں سے عمر نے ماروی کو اٹھایا تھا اور عمرکوٹ کے قلعے میں قید کر دیا تھا۔ اب ماروی کے کنویں کو محکمہء ثقافت کی طرف سے چار دیواری دے کر محفوظ کیا گیا ہے۔ آپ جب اس چار دیواری کے اندر جاتے ہیں تو وہاں کے مقامی فنکار اپنے ساز و آواز سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ کنویں میں ابھی تک پانی ہے جسے لوگ استعمال کرتے ہیں۔

ہم جب ماروی کے کنویں سے واپس ہوئے تو سورج ڈوب چکا تھا ہم آگے چل کر مغرب کی طرف ایک لنک روڈ پر ہو لیے۔ اس علاقے کو ‘سندر’ کہتے ہیں۔ اور صحیح کہتے ہیں۔ ٹیلوں پر سے شام کی ٹھنڈی ہوا بہتی تھی۔ بہت سارے گھوڑے تھے جو اپنی مرضی کی رفتار سے دوڑتے جاتے۔ ایک وسیع لینڈاسکیپ کو متحرک دیکھ کر ایسا لگتا جیسے کسی ہالی وڈ فلم کا منظر ہو۔ ہم جب گاؤں مالسریو میر محمد سموں پہنچے تو شام کب کی ڈھل چکی تھی اور رات کی سیاہی چار سو پھیلتی تھی۔

بھالوا میں ماروی کا کنواں.
بھالوا میں ماروی کا کنواں.
بھالوا کا ایک مقامی فنکار.
بھالوا کا ایک مقامی فنکار.

کچھ آوازوں پر میری آنکھ کھلی۔ سورج نہیں اگا تھا پر سفید ٹھنڈی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ آسمان پر کہیں اِکا دکا ستارہ نظر آجاتا۔ چار سو خاموشی تھی، باد صبا کی میٹھی ٹھنڈک میں غنودگی تھی۔ پھر اچانک تھوڑی دور کہیں مور بولا اور پھر بہت سارے مور بول اٹھے۔ ایک سماں سا بندھ گیا۔ ان آوازوں کے سحر کی چادر آپ کی روح پر بچھ سی جاتی ہے۔ ٹھنڈی اور غنودگی سے بھری نئے صبح کا ایسا پرتپاک استقبال۔

آپ جب پاری نگر پہنچتے ہیں تو چند پختہ دکانیں، چائے کے ہوٹل، اور کچھ جھونپڑیاں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ اس کے حال پر نہ جائیں، ماضی میں یہ ایک شاندار بندرگاہ رہ چکا ہے اور اس کی آبادی 40 ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ تاریخ کے اوراق تو یہ بتاتے ہیں کہ، موہن داس کرم چند گاندھی کے بڑے یہاں کے تھے۔ لیکن اب بندرگاہ کے فقط نشانات ہیں اور لوک کہانیاں ہیں جو آپ کو سننے کو ملتی ہیں۔ آپ جیسے ویراواہ کی چوکی پار کر کے ننگر پارکر کی طرف جاتے ہیں تو منظر تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔ ریت کے ٹیلے کہیں دور رہ جاتے ہیں۔ راستے کے دونوں اطراف میں پہاڑیاں جیسے اگنے لگتی ہیں۔ پھر مغرب کی طرف سیدھی مٹی والی زمین کی ایک لکیر سی کھنچ جاتی ہے جس پر تازہ برسی بارش کی وجہ سے ہریالی بکھرتی تھی۔ اور یہ لکیر ‘رن کچھ’ کی تھی۔

ننگر پارکر سے ایک چہرہ.
ننگر پارکر سے ایک چہرہ.
ننگرپارکر.
ننگرپارکر.

آپ جنوب کی طرف چلے چلتے ہیں اور ساتھ میں پہاڑیوں کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے۔ پھر دور سے جو ہلکی دھند میں لپٹا ہوا مجھے ریت کا ٹیلا لگا تھا، وہ ہریالی سے سجا ‘کارونجھر’ تھا۔ اور اس کے دامن میں بسا ‘ننگر پارکر’ تھا۔ لیکن اس سے پہلے مغرب کی طرف ایک لنک روڈ نکلتا ہے اور وہاں ہریالی کے بیچ میں 1505 میں محمود شاہ بیگڑہ، جو 1459 سے 1511 تک گجرات کا حاکم رہا، کی تعمیر کروائی گئی قدیم خوبصورت مسجد ہے اور آباد ہے۔

مسجد کی چار دیواری کے باہر درخت کی گھنی چھاؤں میں ایک حکیم جڑی بوٹیاں سجا کر بیٹھا تھا۔ میں نے جب اس سے پوچھا کہ “یہ بکتی ہیں؟” تو اس نے فوری طور پر جواب دیا: “بالکل بکتی ہیں۔” پھر میں نے پوچھا “سارا برس بکتی ہیں؟” جواب آیا: “سارا برس نہیں بکتیں۔ بس بارش کے دو تین مہینے بکتی ہیں اور اچھا گزر بسر ہوجاتا ہے۔”

مسجد سے مغرب کی طرف بھوڈیسر کا تالاب ہے جس کو بھوڈی پرمار نے چھٹی صدی عیسوی میں بنوایا تھا۔ بارش میں کارونجھر سے جھرنے بہتے ہیں اور اس جیسے کئی تالاب ان جھرنوں کے پانی سے بھر جاتے ہیں۔ مگر یہ تالاب خاص اور خوبصورت اس لیے ہے کہ کارونجھر جبل کے آنگن میں ہے۔ اور جین مت کا وہ مندر بھی خوبصورت ہے جو اس تالاب کے جنوب میں ہے۔ اس مندر کے لیے وقت کوئی خاص مہربان نہیں رہا۔ ‘جین مت’ کا یہ ایک چھوٹا سا مندر ہے جو ٹوٹ پھوٹ گیا ہے مگر پھر بھی دور سے اس کی تعمیر میں ایک خوبصورتی ہے جو آپ کو اپنے طرف بلاتی ہے۔

بھوڈیسر تالاب.
بھوڈیسر تالاب.
بھوڈیسر تالاب، جین مندر، اور کارونجھر.
بھوڈیسر تالاب، جین مندر، اور کارونجھر.
ننگر پارکر.
ننگر پارکر.
ننگر پارکر.
ننگر پارکر.

ہم جب ننگرپارکر کے چھوٹے سے شہر میں پہنچے تو ایسا لگا جیسے کارونجھر شفیق باپ ہو اور یہ ننھا منا شہر اس کی انگلی پکڑے کھڑا ہے اور آنکھیں جھپکا کر آپ کو یہاں آنے پر بڑے پیار سے دیکھ کر خوش آمدید کہہ رہا ہو۔ ننگرپارکر قدیم اور جدید دور کا ایک چھوٹا سا مگر اپنے اندر قدامت کی خوشبو سنبھال کر رکھنے والا ایک خوبصورت سا شہر ہے۔

ہم جب شہر سے باہر نکلے اور واپسی کا سفر شروع ہوا تو پہلے کارونجھر کے بڑے پہاڑ کو چھوڑا، پھر جیسے شمال کی طرف بڑھتے گئے تو پہاڑی سلسلہ مختصر سا ہوتا گیا اور 18 کلومیٹر کے بعد ہم مرکزی شاہراہ سے مغرب کی طرف ایک لنک روڈ سے ایک کلومیٹر آگے گئے جہاں یہاں کے مشہور شاعر ساگر خاصخیلی کا گاؤں تھا۔ گاؤں کے آنگن میں اس لاکھوں برس پرانے پہاڑی سلسلے کے آخری پتھر ایک ترتیب سے پڑے ہوئے تھے۔

کنڈی کے درخت تھے اور حد نظر تک ہریالی کی چادر بچھی تھی۔ بھیڑیں اور بکریاں گھاس چرتی جاتیں اور ہلکے بھورے رنگ کے گول پتھر اس انداز سے پڑے تھے جیسے کسی نے انہیں سانچے میں ڈھال کر یہاں ایک ترتیب سے جما دیا ہو۔ ان پتھروں کے قریب زقوم کی صحت مند اور ہریالی میں ڈوبی جھاڑیاں تھیں۔ دوسری بھی مقامی گھاسیں تھیں جن پر ننھے منے رنگ رنگ کے پھول کھلتے۔ چار سو نیلے آسمان کا گنبد ان مناظر میں جان ڈال دیتا اور اس منظر کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے فطرت سفید سی کچھ بدلیاں بھیج دیتی اور آپ کے پاس اس خوبصورتی کے بیان کے لیے الفاظ سے بھری جھولیاں خالی پڑ جاتیں۔

ساگر گاؤں.
ساگر گاؤں.

اس منظر کے سامنے دور جنوب کی طرف ہلکی دھند میں لپٹا کارونجھر کھڑا ہے اور اس پہاڑ کے دامن میں جو جین دھرم کا مندر ہے اس مندر کے آنگن میں ابھی تک وہ بوڑھا بیٹھا ہوگا جس کو زمانے نے ٹھوکروں اور ذلتوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ جو بات کہو اس پر وہ فوری طور پر عمل کرتا ہے۔ ادھر ہو جاؤ۔ ادھر ہوجاؤ۔ یہاں فریم میں آرہے ہو۔ نیچے اترجاؤ۔ اور وہ کمزور قدموں سے مندر کی سیڑھیاں اتر جاتا ہے اور فوٹو نکالنے والے کو نرم نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہے۔ ایک پوٹلی ہے جس میں زمانے کے درد، ذلتیں اور بے بسیاں بندھی ہوئی ہیں۔ دراوڑ ہے اس لیے رنگ کا سیاہ ہے۔

مسجد محمد شاہ بیگڑہ، بھوڈیسر.
مسجد محمد شاہ بیگڑہ، بھوڈیسر.
کارونجھر.
کارونجھر.
کارونجھر.
کارونجھر.

میں جب ایک جھاڑی کی چھاؤں میں بٹھا کر اس سے پوچھتا ہوں: “اس برس تو تھر کے آسمان پر سے پانی برسا ہے۔ اب تو سب ٹھیک ہوجائے گا نا؟” وہ پہلے کچھ لمحوں کے لیے سوچتا ہے پھر کپاس جیسی نرم آواز میں کہتا ہے: “شکر ہے برسا تو ہے۔ مگر یہ چار دن کے لیے ہے۔ اس برسنے سے بس پینے کا پانی ملا ہے، گھاس نہیں ہوئی۔”

میں نے اس کی بات کے بیچ میں کہا “گھاس نہیں ہوئی؟ تو یہ کیا ہے؟”

“یہاں جب برابر بارشیں پڑیں تو اتنی بڑی گھاس ہوتی ہے کہ بھیڑیں اور بکریاں ان گھاسوں میں نظر نہیں آئیں گی۔ اور آپ کو زمین کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ بس گھاس ہی گھاس۔ اس برس بھی کال ہے۔ لگتا ہے تھر کو نظر لگ گئی ہے۔ جاڑوں کے بعد آئیے گا، کچھ نہیں ہوگا یہاں۔ بس ویرانی ہوگی۔ ویرانی اور دکھ میں کون آتا ہے یہاں؟” آنے والے خوفناک دنوں کی وحشت اس کے الفاظ میں سے جھانکتی تھی۔

“میں آؤں گا ویرانی میں یہاں۔ آپ ہوں گے؟” میرے اس سوال پر اس کی بھنووں، پیشانی اور ہونٹوں میں ہلکی حرکت سی ہوئی۔ وہ اس سوال کا جواب اندر میں ٹٹول رہا تھا مگر جب اعتماد کے اونٹوں کے قافلے دل کے ریگستان سے گزر کر جا چکے ہوں تو پھر ٹٹولنے سے کچھ نہیں ملتا۔ اس نے وقت سے پہلے بوڑھی ہوتی ہوئی معصوم آنکھوں سے مجھے دیکھا اور ہاتھ کو اس طرح حرکت دی جیسے کہہ رہا ہو کہ “پتہ نہیں”۔

واپسی کے سارے راستے میں نہ جانے کیا سوچتا رہا۔ موسموں کی تبدیلی کی وحشت کا آج مجھے اندازہ ہو رہا تھا۔ انسان ذات ترقی کے کس راستے پر گامزن ہے۔ اگر حاصل یہ ہے تو ہم ایک ایسے راستے کے مسافر ہیں جہاں بربادی کے سوا کچھ نہیں رکھا۔ انسان ترقی کے نام پر خطے اور کلچر اجاڑ رہا ہے اور یہ کوئی اچھا سودا نہیں ہے۔

باہر رات کی سیاہی تھی اور ریت کے ٹیلے جیسے واپس جا رہے تھے۔ وہاں جہاں ایک پہاڑ ہے، پہاڑ کے دامن میں مندر ہے اور اس مندر میں ایک بے بس دراوڑ بیٹھا ہوتا ہے اور آنے والے دنوں میں کال ہے۔

ماروی کا کنواں، تھر کے محبت کرنے والے سادہ مزاج لوگ، چھوٹے و کچے گھر مگر بڑے دل، اور صحرا میں ہریالی کا عجب منظر دیکھ کر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سر ماروی کے اشعار کانوں میں گونجنے لگتے ہیں.

نرم و نازک کلائیاں یاد آئیں

اور شیشے کی چوڑیاں یاد آئیں

میرے تن من میں ماروؤں کا پیار

اور پیاری سہیلیاں یاد آئیں

تابحدِ نگاہ سبزہ زار

اور تھر کی وہ جھگیاں یاد آئیں

اے عمر چھوڑ دے، میں جاؤں گی

اسی دنیا کو پھر سے بساؤں گی

— تصاویر بشکریہ ابوبکر شیخ۔

Tags: , , ,