پاکستان، ترکی کا انسداد دہشت گردی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد:پاکستان اور ترکی نے دولت اسلامیہ (داعش) اور اس جیسی دوسری عسکریت پسند تنظیموں سے لاحق ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے انسداد دہشت گردی پر مبنی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ترک صدر جب طیب اردوان نے ہفتہ کو یہاں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ اردوان کے انڈونیشیا سے واپسی پر پاکستان میں مختصر قیام کے دوران والہانہ استقبال کیا گیا۔
نور خان ایئر بیس پر نوازشریف نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، مریم نواز اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے ہمراہ ترک وفد کا استقبال کیا۔
اردوان اس سے پہلے بطور وزیر اعظم دسمبر، 2013 میں اسلام آباد اور لاہور دورے پر آئے تھے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران اردوان کا یہ ساتواں دورہ ہے، جس سے ان کے دورِ حکومت میں دونوں ملکوں کے دوران تعلقات میں بہتری عیاں ہوتی ہے۔
ترکی میں حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد وہاں کی حکومت نے داعش اور کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف کارروائی میں تیزی کر دی ۔
حال ہی میں داعش کے خلاف حملوں میں اضافہ نیٹو کے اہم اتحادی ترکی کی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے۔ امریکا اور ترکی نے شمالی شام سے داعش کو نکالنے کیلئے مل کر کارروائی پر اتفاق بھی کیا ہے۔

