چترال میں بارشوں نے تباہی مچا دی، جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہو گئی

chit

ریش گول نالے میں طغیانی سے مسجد، دکانیں اور گھر بھی بے قابو لہروں کی زد میں آ گئے۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، انتظامیہ اور رضا کار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔چترال: چترال میں سیلابی ریلوں نے تباہی اور بربادی کی نئی داستان رقم کر دی ہے۔ ریش گول نالے میں بھی سیلابی لہریں بے قابو ہو گئیں۔ متعدد دکانیں اور گھر بھی غضب ناک لہروں کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ تین سو سے زائد گھر پانی کی بے رحم موجوں میں بہہ گئے۔ پانچ سو گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ راستے بند ہونے اور پل ٹوٹنے سے درجنوں علاقوں میں لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔     حسرت ویاس کی تصویر بنے لوگوں کے لئے واحد امید پاک فوج کے جوان ہیں جو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی اشیاء پہنچا رہے ہیں۔ اپر چترال اور گرم چشمہ سمیت متاثرہ علاقوں سے کئی لوگوں کو نکالا جا چکا ہے۔ گیارہ دنوں میں سیلابی ریلوں نے اب تک اکتیس افراد کی جان لے لی ہے۔ کرک کے علاقے زانکا میں 2 افراد برساتی نالے میں بہہ گئے۔ چلاس کے نالہ کھنبری میں سیلابی ریلا 2 بچوں کو بہا لے گیا۔ شانگلہ میں بشام کے قریب دریائے خان خواڑ میں کار گرنے سے 4 افراد ڈوب گئے۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کا سلسلہ نہ تھمنے سے اب تک متعدد سڑکوں کی بحالی کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔     محکمہ موسمیات نے ملک میں بارشوں اور سیلاب کے نئی وارننگ جاری کی ہیں۔ آئندہ کچھ روز میں گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی جن کے باعث کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا کے اکثر علاقے میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔ بارش کا سلسلہ تین سے چار روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بالائی علاقوں کے بعد مون سون ہواؤں کا یہ سلسلہ بالائی پنجاب کو جل تھل کرتا ملک کے جنوبی علاقوں میں رخ کر رہا ہے۔ مون سون ہوائیں جنوبی پنجاب سے ہوتی ہوئی سندھ اور بلوچستان میں داخل ہوں گی جس سے سکھر، لاڑکانہ، کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص اور بلوچستان میں ژوب، سبی اور نصیر آباد میں شدید بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے مون سون کی غیر معمولی بارشوں کے باعث پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر، بلوچستان اور سندھ میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو حفاظتی تدابیر اور ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔   این ڈی ایم اے کے اعدادوشمار کے مطابق سیلاب سے خیبر پختونخوا میں 26 ہوئیں، بلوچستان میں7، پنجاب 3، آزاد کشمیر 13 اور گلگت بلستان میں 2 اموات ہوئیں۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں 23 ہزار 757 ٹینٹ ارسال کئے جا چکے ہیں۔ 20 ہزار 486 ٹن اشیاء خورونوش، 121 ٹن منرل واٹر بوتلیں بھجوائی جا چکیں ہیں۔ 2 لاکھ 84 ہزار سے زائد مویشیوں کی ویکسینیشن کی گئی ہے۔ 10 ہزار 134 مریضوں کا علاج بھی کیا جا چکا ہے۔ 8 ہزار سے زائد افراد سیلاب متاثرہ کیمپس میں رہائش پذیر ہیں۔

َِ