Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

خوراک کے عالمی مسائل اور ہماری عادات. جاوید حفیظ

حکیم محمد سعید مرحوم لنچ نہیں کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میرا بس چلے تو لنچ بین کر دوں۔ طبِ نبوی میں بھی بسیار خوری سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث شریف ہے کہ اپنے پیٹ کو جانوروں کا قبرستان نہ بناؤ۔ مقصد یہ ہے کہ انسان کو گوشت کم کھانا چاہئے۔ جو باتیں ہمارے نبی اکرمؐ نے چودہ صدیاں پہلے کہیں‘ جدید سائنس نے حال ہی میں ان کی تصدیق کی ہے۔پیرس میں چھپنے والی ریسرچ سٹڈی میں کہا گیا ہے کہ ریڈ میٹ یعنی بیف اور مٹن کے زیادہ استعمال سے نہ صرف ہماری صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ماحولیات کو بھی۔ گائے کے چارے کے لیے جنگل کاٹے جا رہے ہیں اور یہ جانور فضا میں میتھین گیس چھوڑتا ہے‘ جو ماحول کو خراب کرتی ہے۔ اس ریسرچ سٹڈی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں چینی کا استعمال 50 فیصد کم کر دینا چاہیے۔ اس وقت دنیا کی آبادی تقریباً سات ارب ہے‘ جو 2050 میں دس ارب ہو جائے گی اور دس ارب کی آبادی کو فیڈ کرنے کے لیے دنیا کے قدرتی وسائل پر بے پناہ بوجھ پڑے گا۔
پروفیسر ٹم لینگ لندن یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور وہ اس رپورٹ کے Co-author ہیں۔ رپورٹ میں ایک اور اہم موضوع کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ یہ کہ موجودہ دنیا میں تقریباً ایک ارب لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے‘ یعنی وہ روزانہ درکار غذائی حرارے کھانے سے قاصر ہیں جبکہ دو ارب ایسے ہیں جو بسیار خوری کا شکار ہیں یا ان کی کھانے کی عادات صحت مندانہ نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کثرت سے فاسٹ فوڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ ریڈ میٹ روزانہ اور ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال ایک کروڑ لوگ بسیار خوری کی وجہ سے اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ کا حاصل کلام یہ ہے کہ اگر دنیا کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی غذائی عادات میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ اس سے ہماری صحت اچھی رہے گی اور ہمارا اکلوتا سیارہ بھی تباہی سے بچ سکے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بنیادی تجویز یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کھانے میں گوشت کی مقدار نصف کر دے اور سبزیوں‘ فروٹ اور خشک میوہ جات کو دُگنا کر دے؛ چنانچہ آئیڈل طور پر ہمیں روزانہ پانچ سو پچاس گرام یعنی نصف کلو سے زائد سبزیاں اور فروٹ کھانے چاہئیں‘ ایک پاؤ چاول یا ایک ہی پاؤ آٹے کی روٹی۔ ایک پاؤ دودھ یا دہی اور صرف چودہ گرام گوشت یعنی ایک مُنی سی بوٹی۔ چینی روزانہ تیس گرام سے زیادہ مضر صحت ہے۔ دالیں‘ مچھلی‘ مرغی کا گوشت ہر گھرانے کے مینو میں شامل ہونا چاہیے۔ اس سٹڈی کے مطابق انڈے ہفتے میں صرف دو ہی کافی ہیں۔ جب میں نے اس رپورٹ کی مختصر شکل اخبار میں دیکھی تو سوچا کہ اس پر ایک مفید کالم لکھا جا سکتا ہے۔ پھر خیال آیا کہ خوراک کا موضوع میرے عام موضوعات سے ہٹ کر ہے اور میں کوئی نیوٹریشن ایکسپرٹ بھی نہیں ہوں‘ لیکن اپنے لمبے ذاتی تجربات کی بنا پر چند باتیں مجھے معلوم ہیں جنہیں قارئین کے ساتھ شیئر کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ ایک بنیادی سی بات یہ ہے کہ گھر کا پکا ہوا کھانا باہر پکے ہوئے کھانے سے بہت بہتر ہے۔ گھر کے کھانے کے لوازمات آپ خود خریدتے ہیں یا آپ کی بیگم۔ اور پھر گھر کے کچن میں ہائی جین آپ کے کنٹرول میں ہے۔ آپ اپنے باورچی کے صفائی ستھرائی کے معیار کو خود روزانہ چیک کر سکتے ہیں۔ کک آپ کی عادات کو جانتے ہیں۔ اگر آپ روزانہ کہیں گے کہ وقفے وقفے سے حسب ضرورت ہاتھ دھونا ضروری ہیں اور وہ بھی اچھے صابن کے ساتھ‘ تو وہ آپ کی نصیحت کو فالو کریں گے۔ ریسٹورنٹ کے کچن پر میرا اور آپ کا کنٹرول نہیں۔ میرے گھر کے کچن میں چوہے کا گزر ،ناممکن ہے لیکن اچھی سے اچھی بیکری کے بارے میں یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔
آج کل بیکری سے فوڈ آئٹم خریدنے کا رواج عام ہو چلا ہے۔ مہمانوں کی تواضع بسکٹ‘ سموسوں‘ کیک اور چکن پیٹیز سے کی جاتی ہے۔ آپ کسی دوست کو ملنے جاتے ہیں تو کسی اچھی سی بیکری سے کیک خرید کر ساتھ لے جاتے ہیں‘ اور اچھے کیک کی قیمت ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے۔ کیک کے بنیادی اجزا میدہ، کریم، چاکلیٹ اور چینی ہیں اور ان میں سے تین اجزا یقینی طور پر مضر صحت ہیں۔ ہمیں بیکری سے صرف ڈبل روٹی خریدنی چاہیے اور وہ بھی ہول ویٹ یا ملٹی گرین۔ سفید میدے والی مِلک بریڈ دیکھنے اور کھانے میں اچھی ہے لیکن دراصل مضر صحت ہے۔
اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لیے انسان کیا کھائے؟ اس سوال کا جواب چنداں مشکل نہیں۔ سب سے پہلے تو میں آپ کو اس بات پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ہمارے ملک میں انواع و اقسام کی سبزیاں اور پھل کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ آج کل گاجر مولی کا موسم ہے۔ یہ آپ روزانہ کھائیں اور سلاد کے طور پر‘ کیونکہ پکی ہوئی سبزی کی آدھی نیوٹریشن ختم ہو جاتی ہے۔ ہر سمجھدار ڈاکٹر مشورہ دیتا ہے کہ آپ اپنے آبائواجداد والی خوراک کی طرف لوٹ جائیں‘ یعنی ساگ کھائیں‘ مکئی کی روٹی کھائیں‘ دالوں کا خوب استعمال کریں اور آٹا ہول ویٹ یعنی چکی کا پسا ہوا استعمال کریں۔ ہمارے گھر میں آج کل جو اور گندم کے آٹے کو مکس کرکے روٹی پک رہی ہے۔ میں ہر سال دسمبر میں اپنے گاؤں جاتا ہوں اور کافی سارا ساگ اور مکئی کا آٹا لے آتا ہوں۔ ساگ پکا کر فریز کر لیا جاتا ہے اور کئی ماہ تک چلتا ہے۔
سوشل میڈیا پر آج کل مشہور بھارتی اتھلیٹ ملکھا سنگھ کا ویڈیو کلپ چل رہا ہے۔ ملکھا سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ کھانا کم کھاتا ہے اور روزانہ دوڑ لگاتا ہے۔ اس کی عمر نوے سال کے قریب ہے اور صحت بہت اچھی ہے اور اچھی صحت کا راز ہے زیادہ ورزش اور کم کھانا۔
انسانی تاریخ میں کئی مرتبہ شدید قحط آئے اور لاکھوں انسان اور جانور لقمۂ اجل بنے۔ اسی وجہ سے انسان کے تحت الشعور میں بھوک سے مر جانے کا خوف موجود ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے متمول لوگ ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں۔ امریکہ سے لے کر پاکستان تک کھاتے پیتے لوگ بے تحاشا موٹے ہو رہے ہیں۔ ذیابیطس اور دل کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی چاندی ہو رہی ہے۔ شادی بیاہ کے فنکشن میں اگر مٹن قورمہ ہو تو یار لوگ اُس پر ایسے حملہ کرتے ہیں جیسے ان کی زندگی کا آخری کھانا ہو۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے ایک صاحب کی پلیٹ میں مجھے دس کے قریب بوٹیاں نظر آئیں۔ ایسے لوگ اپنی صحت کے ساتھ صریحاً ظلم کرتے ہیں۔
کوشش کریں کہ کم کھائیں مگر آپ کی خوراک میں فائبر اچھی خاصی مقدار میں موجود ہو۔ اس سے نظام ہضم توانا رہتا ہے۔ پھلوں سبزیوں اور ہول سیریل میں فائبر کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔میں نے اپنی سروس کے دوران دنیا جہاں کے کھانے کھائے۔ میرے خیال میں دنیا میں سب سے صحت بخش غذا بحیرہ روم کے ممالک کی ہے‘ جن میں یونان اور اٹلی شامل ہیں۔ ان ممالک میں سلاد، سبزیاں، فروٹ، مچھلی پنیر اور زیتون کا تیل خوب استعمال ہوتے ہیں۔ یونان میں مچھلی فرائی کرنے کی بجائے عمومی طور پر بھونی جاتی ہے۔ پالک اور بینگن مرغوب سبزیاں ہیں۔ لیموں کا استعمال عام ہے۔ اس خطے کے لوگ بہت صحت مند ہیں۔ ہمارے ہاں کاربونیٹڈ ڈرنکس کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ میرے خیال میں سب سے اچھا ڈرنک سادہ پانی ہے گزشتہ بیس سال سے میں چائے بغیر چینی کے پی رہا ہوں۔ مٹھائی نہ ہونے کے برابر کھاتا ہوں۔
اور اب ایک ذاتی تجربہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا چلوں۔ 2003 کے آغاز میں مَیں نے ایتھنز میں سارے ٹیسٹ کرائے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ قبل از ذیابیطس Pre Diabtic سٹیج پر ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آیا اس مرض سے بچاؤ ممکن ہے؟ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ بعض حالات میں بچاؤ ممکن ہوتا ہے؛ البتہ سب سے اہم چیز مریض کی قوت ارادی ہے۔ ڈاکٹر کا اگلا سوال تھا: سفیر صاحب کیا آپ ایک ماہ میں اپنی کمر دو انچ کم کر سکتے ہیں؟ میں نے ہامی بھر لی۔ لنچ چھوڑ دیا۔ ورزش دُگنی کر دی‘ یعنی صبح بھی اور شام بھی۔ کمر دو انچ شرنک کر گئی۔ مہینے بعد تمام ٹیسٹ نارمل آئے۔ اُس کے بعد سوچ سمجھ کر کھانا اور روزانہ کی واک میری روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔ الحمدللہ میں آج بھی ذیابیطس کا مریض نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی ہارٹ پرابلم ہے۔ اچھی صحت کے لیے پلاننگ ضروری ہے اور میں اگلے ماہ گولف شروع کر رہا ہوں۔

Tags: