Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

خیبر پختونخواہ فوڈ اتھارٹی کی رمضان میں بھرپور کاروائیاں جاری

کے پی فوڈ اتھارٹی نائٹ سکواڈ کی کاروائی،مارکیٹ میں سپلائی ہونے والے گلے سڑے چکن سے بھرا کنٹینر برآمد، دو ہزار کلوگرام فروزن چکن تلف
پشاور : کے پی فوڈ اتھارٹی کی نائٹ سکواڈ نے ایمرجنسی ریسپانس یونٹ پر ملنے والی معلومات پر کاروائی کرتے ہوئے چمکنی میں گلے سڑے چکن سے بھرا کنٹینر دھر لیا اور دو ہزار کلوگرام فروزن چکن کو ڈبلیو ایس ایس پی کے ڈمپنگ پوائنٹ پر تلف کردیا۔
ڈائریکٹر جنرل ریاض خان محسود نے یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ عوام مطمئین ہوکر سوئے کیونکہ فوڈ اتھارٹی جاگ رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں ہمہ وقت فیلڈ میں رہتی ہیں اور وزیراعلٰی کی خصوصی ہدایات کے مطابق علی الصبح دودھ اور گوشت کی چیکنگ پر مامور رہتی ہیں۔
ڈائریکٹر آپریشن اور نائٹ سکواڈ کیپٹن خالد خان خٹک نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گلے سڑے چکن سے بھر ٹرک مارکیٹ میں سپلائی کیلئے تیار تھا کہ نائٹ سکواڈ کو اطلاع موصول ہوئی اور ان کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کنٹینر میں دو ہزار کلوگرام سے زائد فروزن چکن لوڈ تھا جو کہ بوسیدہ اور خراب ہوچکا تھا اور کنٹینر میں درجہ حرارت کوکنٹرول کرنے کا کوئ انتظام نہ تھا۔آپریشن کے نتیجے میں چمکنی میں واقع فریز چکن ڈسٹری بیوشن کو سیل کرکے دو افراد کو پولیس کے حوالے کردیا۔
نائٹ سکواڈ کے تکنیکی معاون اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسد علی کا کہنا ہے کہ افطاری کے بعد گشت کے دوران جی ٹی روڈ ناصر پور میں سویاں بنانے والی فیکٹری کو بھی ناقص صفائی پر تالے لگ گئے جبکہ دوسری جانب لالی پاپ بنانے والی فیکٹری کو حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی سیل کردیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پھندو روڈ پر مصالحے میں ملاوٹ کرنے پر مصالحہ یونٹ اور گودام کو بھی سیل کردیا گیا۔
نائٹ سکواڈ کو تمام کاروائیوں کی معلومات ایمرجنسی ریسپانس یونٹ پر عوام کی جانب سے مہیا کی جاتی ہیں اور رمضان کریک ڈاون میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران پشاور مین نائٹ سکواڈ نے اب تک بارہ سے زائد اشیائے خوردونوش کے پروڈکشن یونٹس کو سیل کردیا ہے۔ جبکہ رمضان کے پہلے ہفتے میں صوبے کے داخلی راستوں پر ایک لاکھ لیٹر سے زائد دودھ کا تجزیہ کیا گیا ہے

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1804951132940675&id=743105282567183