Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

فیس بک اور دوسری سوشل میڈیا کا استعمال خطرناک ہے: فیس بک کا اعتراف

دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا نے اعتراف کیا ہے. کہ فیس بک اور دوسری سوشل میڈیا کا ایک حد سے زیادہ استعمال کو خطرناک قرار دیا گیا ہے. لیکن سوشل میڈیا کا تعمیری استعمال مثبت نتائج کا حامل ہے. اس طرح یہ بات ثابت ہوگئی کہ فیس بک وقت گزاری اور فالتو استعمال غیرفائدہ مند ہے.

اس قسم کے بیانات فیس بک کے پہلے صدر اور سابق نائب صدر نے بھی دیے ہیں. انکے مطابق فیس بک نے لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کردیا ہے. اب لوگوں کے پانچ سو فیس بک دوست ہوتے ہیں لیکن سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے لئے ٹائم نہیں ہوتا ہے. فیس بک کے پہلے صدر سین پارکر نے 30 نومبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ دنیا کو دیوانہ بنا رہی ہے اور اسے ممکنہ طور پر لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

فیس بک کے سابق ملازمین نے اعتراف کیا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ ایسے ٹولز بنانے میں ویب سائٹ کے شراکت دار رہے، جنہیں استعمال کرتے ہوئے عام عوام کی بہتری، کسی کے ساتھ تعاون اور غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنے سے متعلق کوئی مدد نہیں لی جاسکتی۔ بلکہ الٹا لوگ سماج سے غیر متعلق ہوگئے ہیں.
تاہم فیس بک ریسرچرز کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ صرف سکے کا ایک رخ ہے، جس سے انہیں انکار نہیں، لیکن اسی سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے سماج اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتریاں بھی آئی ہیں، اور اس حوالے سے متعدد تحقیقات بھی ہوچکی ہیں، تاہم ان پر بات نہیں کی جاتی۔

فیس بک ریسرچرز نے اعتراف کیا کہ کسی بھی سوشل نیٹ ورک کے زیادہ اور فالتو استعمال کے نقصانات ہیں، تاہم اگر سوشل میڈیا کو خاص اور سماج کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے استعمال کیا جائے تو اس کے فوائد بھی نکلیں گے۔

فیس بک تحقیقکاروں کا کہنا تھا کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ وہ اس ویب سائٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے درمیان روابط اور سماجی بہتری کے لیے استعمال کرنے کے عزم کا اعادہ کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت فیس بک کے دنیا بھر میں 2 ارب سے زائد صارفین ہیں، اور اوسطا لوگ فیس بک کو یومیہ 50 منٹ تک استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق کاروں کے مطابق سوشل میڈیا لوگوں میں مایوسی، احساس محرومی، ڈپریشن، احساس زیاں اور کئی دوسری ذہنی بیماریوں کا باعث بنتی جارہی ہے.

Tags: , , , ,