Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

پانی یہیں مرتا ہے ۔ ہارون الرشید

پانی یہیں مرتا ہے۔ پسماندہ ہیں‘ رسوا اور خوار ہیں۔ غور و فکر اور تحمّل و تدبر پہ مگر آمادہ نہیں۔ انقلاب کے نعرے ہمیں خوش آتے ہیں۔ جنون ہمارا شعار ہے۔ اللہ کے آخری رسولؐ نے ‘ جس سے پناہ مانگی تھی۔”اے اللہ‘ جنون‘جذام‘برص اور تمام اذیت ناک بیماریوں سے ہمیں بچا‘‘۔
کٹّوں اور ککڑیوںکے ذکر میں‘ وزیراعظم کی تقریر پھبتیوں کا موضوع بن گئی‘ حالانکہ اس میں اہم نکات بھی تھے۔ سنجیدگی سے ان پہ بحث چاہئے تھی۔ مثلاً مقدمات کا زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ برس میں فیصلہ‘ خواتین کے لیے وراثت پہ سختی سے عمل درآمد اور سمندر پار پاکستانیوں کی جائیداد محفوظ رکھنے کے اقدامات۔
غربت تحلیل کرنے کے لیے کٹّوں اور ککڑیوں کا نسخہ کامیاب ہو سکتا ہے‘مگر پاکستان میں نہیں۔ماں کا دودھ نہ ملنے کی وجہ سے کٹّے مرجاتے ہیں اور ککڑیاں ذبح کر کے کھا لی جاتی ہیں۔
اٹھارہ برس ہوتے ہیں قحط زدہ بلوچستان کا قصد کیا۔ اس سفر کے بعض تجربات ہمیشہ حافظے میں رہیں گے۔ بلوچوں کی سادگی اور خود داری‘ بیماری میں مبتلا مویشیوں پہ ان کی بے بسی مگر سخت جانی۔ ایک کیمپ کا منظر کبھی نہیں بھولتا۔ سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے ایک بلوچ خاندان یہاں پہنچا تھا۔ اپنے ساتھ دو مرغیاں وہ لایا تھا۔ دو مرغیوں کا مطلب ہے‘ ممکنہ طور پر دو انڈے۔ سرکارؐ کے فرامین میں سے ایک یہ ہے: ابنِ آدم کو اپنی کمر سیدھی رکھنے کے لیے چند لقمے کافی ہیں۔
انہی دنوں جنرل حمید گل مرحوم نے ایک نسخہ بتایا۔ اپنے بعض ملازمین کو انہوں نے ایک ایک بھینس دے دی تھی۔ کہا کہ اس پہ وہ بسر کر سکتے ہیں۔ نقدی نمٹ جاتی ہے۔ اثاثہ باقی رہتا ہے۔ حسن نثار نے‘ جس کی جذباتیت ضرب المثل ہے‘ مجھ سے کہا: بھینس کو عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کالا سونا کہا گیا ہے۔ تجربات اور مشاہدے سے یہ بات درست ثابت ہوئی۔میرا پسندیدہ ڈرائیور منظور اُکتا کر کھیتوں پہ چلا گیا۔ ایک ایک کر کے تین چار بھینسیں اس نے پال لیں۔ چودہ برس میں اس کا وزن کم از کم 28 کلو بڑھ گیا ہے۔
دیسی مرغیوں اور انڈوں کا کل میں نے مذاق اڑایا۔ معافی چاہتا ہوں‘اس پہ مگر قائم ہوں کہ پاکستانی معاشرے میں تین بار یہ تجربہ ناکام ہو چکا ہے ۔ میاں عامر محمود ‘ ڈاکٹر یاسمین راشد‘ ایاز امیر اور ڈاکٹرز ہسپتال والے ڈاکٹر محمد سرور کے درمیان ابھی کچھ دیر پہلے مکالمہ اس پہ تھا کہ بھینس کا دودھ بہترین ہے۔ دیسی گھی اور دیسی مرغی بھی۔یہ دنیا ٹی وی کی دسویں سالگرہ تھی۔ ازراہِ مزاح میں نے کہا:ڈاکٹر صاحب خود تو دیسی گھی اور دیسی مرغی کے مزے لیتے رہے‘ ہم سے بھید چھپائے رکھا۔ میاں عامر محمود نے اس پر کہا: یہ جو کھانا آپ ہمارے ساتھ اڑاتے ہیں‘ وہ یہی ہوتا ہے۔ تب ان معززین سے عرض کیا: 1970ء سے ہر چند ڈاکٹر حضرات دیسی گھی اور 1980 ء سے دیسی انڈوں سے ڈراتے رہے۔ ایک دن بھی اللہ کے فضل سے ان کی نہیں سنی۔ ہمیشہ دیسی گھی کے کھانے کو ترجیح دی‘ دیسی مرغی اور انڈے بھی… طِب کی باریکیوں کا کس کافر کو علم تھا‘ مگر وہ ذائقہ‘ مگر وہ خوشبو۔ ہزاروں برس کے تجربات سے آدمی نے جو کچھ سیکھا‘ کسی عصری لہر پہ اسے قربان نہ کرنا چاہئے۔
سات برس ہوتے ہیں‘ عمران خان نے ایک گائے خریدی۔ اس کے دودھ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملایا کرتا۔ ایک برس بیتا تو اسی جوش و خروش سے اطلاع دی۔ اب میں نے ایک بھینس پالی ہے۔ اس لیے کہ بھینس کے دودھ میں گھی دو گنا اور کولیسٹرول نصف ہوتا ہے۔ اپنی بلا سے۔ہم نے ہمیشہ بھینس کا دودھ پیا‘ جب بھی ممکن ہوا‘ بھینس کا مکھن کھایا۔ اکثر بالائی سے ناشتہ کیا اور چپڑی ہوئی روٹی کھائی۔ چپڑی اور دو دو۔
از راہِ کرم نامور سائنس دان ڈاکٹر شمشاد نے پرسوں پرلے روز کھانے پہ مدعو کیا۔ دوسرا کھانا بھی لذیذ تھا مگر پائے کا شوربہ۔ انہوں نے انکشاف یہ کیا: کولیسٹرول اس میں نہیں ہوتا۔ میں نے جی میں کہا: ہوتا بھی تو کیا۔ ہم نے اس باب میں ڈاکٹروں کی بات کبھی نہ مانی۔ اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھینسیں پالیں اور زندگی کا لطف اٹھایا۔ اللہ کی آخری کتاب کہتی ہے: کھائو پیو‘ جو حلال اور پاکیزہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اعتدال کے ساتھ ۔ ظاہر ہے کہ اعتدال کے ساتھ!
لکھ سکا تو تین چار سو صفحات میں انشاء اللہ اپنے مشاہدات لکھوں گا۔ مجھ پہ الزام ہے کہ تکرار کا مرتکب ہوتا اور خورو نوش کا تقدیس سے تذکرہ کرتا ہے۔ دونوں الزامات درست ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہ کیا جائے… دودھ میں پکا جو کا دلیہ‘ گرم پانی میں بیری کے شہد کا ایک چمچ‘ وغیرہ وغیرہ۔ سحر سے شام تک اللہ کی نعمتیں۔ ان پہ غریبوں کا بھی حق ہے۔ افسوس کہ صاحبِ حیثیت بھی ان سے محروم ہو گئے۔ شاید اسی لئے ہو گئے کہ غربا کو بھلا دیا۔ اللہ ان پر رحم کرے۔
دوسرے موضوعات زیادہ اہم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اصل اہمیت الفاظ نہیں عمل کی ہوتی ہے۔ اگر مقدمات کا فیصلہ واقعی اٹھارہ ماہ میں ہونے لگے تو یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔ صدیوں سے یہ معاشرہ عدل سے محروم ہے۔ برصغیر کے لوگ مقدمہ باز ہیں۔ جھوٹے گواہ‘ بدعنوان اہلکار‘ پریشان حال اور آخر کو بے حس ہو جانے والے جج‘ خاص طور پہ چھوٹی عدالتوں کے جج۔ بے پناہ بوجھ ‘ جن پر بوجھ لاد دیا گیا ہے۔
کئی بار عرض کیا ہے کہ خاکسار کی موجودگی میں بہار کے انقلابی وزیراعلیٰ نتیش کمار نے عمران خان کو اس بارے میں بتایا۔مقدمات کا بروقت فیصلہ‘ زیادہ سے زیادہ دو تین ماہ میں۔ کرپشن اور غنڈہ گردی کا خاتمہ۔افسروں کی سختی سے نگرانی‘ سرکاری دفاتر میں کاہلی کا سدِباّب۔ چھ برس میں بیس کروڑ کے صوبے کی آمدن 7000 کروڑ سے 28000 کروڑ ہو گئی۔ پاکستان میں یہ کیوں ممکن نہیں۔ یکسوئی نصیب اور عزم راسخ ہو تو ہر چیز ممکن ہے۔ سیاسی جماعتوں میں بد قسمتی سے کچرا بھرا ہے۔ ہم روتے بہت ہیں۔ رونے والوں کو لیڈر لوگ خواب بہت دکھاتے ہیں۔ رہا عمل تو ہمارا خیال ہے کہ کسی عظیم لیڈر کی قیادت میں‘ ایک لشکر کوئی کارنامہ کر دکھائے تو کر دکھائے۔ ہمیں کچھ نہیں کرنا۔
شاخِ گل ہی اونچی ہے‘ نہ دیوارِ چمن بلبل
تری ہمت کی کوتاہی‘ تری قسمت کی پستی ہے
پانچ برس ہوتے ہیں۔ صبح سویرے ایک محترم دوست نے خوابِ راحت سے جگایا۔ جناب شہباز شریف کی خدمت میں لے گئے۔ انہوں نے مشورہ مانگا تو عرض کیا: فوج سے الجھنا چھوڑ دیجئے‘ لائق لوگوں کی ٹیم بنائیے‘ پولیس کو بہتر بنائیے… اور سمندر پار پاکستانیوں کو ظلم و ستم سے بچانے کی کوشش کیجئے۔ بولے: بالکل یہ کر رہا ہوں‘ بالکل یہی۔ فوج کے باب میں تو خیر وہ بالکل قصور وار نہیں۔ان کے برادرِ بزرگ ہیں۔ ڈرتے ڈرتے جنہیں وہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ نہ سمجھنے پہ تلے تھے۔ اب بھگت رہے ہیں اور اب مداوا بھی ممکن نہیں۔
نون لیگ اب بھی تحریک انصاف سے بڑی پارٹی ہے۔ سیٹیں اگرچہ پی ٹی آئی کی زیادہ ہیں مگر ووٹ نون لیگ کے۔ شریف خاندان پارٹی سے دستبردار ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ ایک ڈیڑھ سال میں پھر سے پنجاب کی حکومت اسے مل سکتی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں سیٹیں ان کی زیادہ تھیں۔ پی ٹی آئی نے ق لیگ اور آزاد ارکان کی مدد سے حکومت بنائی۔ بنا لی مگر عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ کیا اور ریموٹ کنٹرول سے کاروبارِ حکومت چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سارا جاتا دیکھئے تو آدھا دیجئے بانٹ۔
حکمرانوں کی نفسیات میںجو خرابیاںلازماًہوتی ہیں‘ ان میں سے ایک قبضہ گیری (possessiveness) ہے۔ آدمی کی اُفتادِ طبع ہی اس کی تقدیر ہے۔ رہا وراثت میں خواتین کا حصّہ ہڑپ کرنے کا رجحان تو قانون پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ قوم کو سکھانے اور تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔
پانی یہیں مرتا ہے۔ پسماندہ ہیں‘ رسوا اور خوار ہیں۔ غور و فکر اور تحمّل و تدبر پہ مگر آمادہ نہیں۔ انقلاب کے نعرے ہمیں خوش آتے ہیں۔ جنون ہمارا شعار ہے۔ اللہ کے آخری رسولؐ نے ‘ جس سے پناہ مانگی تھی۔”اے اللہ‘ جنون‘جذام‘برص اور تمام اذیت ناک بیماریوں سے ہمیں بچا‘‘۔